بلوچستان میں امن و امان کی ابتر صورتحال، شاہراہوں کی بندش، تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹوں اور کاروباری برادری کے بڑھتے ہوئے تحفظات نے ایک بار پھر صوبائی حکومت کی کارکردگی اور حکمرانی کی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بلوچستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور بلوچستان بزنس الائنس اینڈ ایکشن کمیٹی نے بارہا حکومت کو اپنے جائز مطالبات، کاروباری مشکلات اور امن و امان سے متعلق خدشات سے آگاہ کیا، مگر ان مطالبات کو مطلوبہ سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ نتیجتاً تاجروں اور صنعت کاروں کو شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال جیسے سخت اقدامات کا اعلان کرنا پڑا۔ ایک ذمہ دار حکومت کا تقاضا تو یہ تھا کہ مسائل کو ابتدا ہی میں حل کیا جاتا اور معاملات اس نہج تک نہ پہنچتے جہاں احتجاج ناگزیر محسوس ہونے لگتا۔ اگر حکومت بالآخر مذاکرات کے ذریعے بیشتر مطالبات تسلیم کرنے پر آمادہ ہو گئی تو یہ خود اس بات کا اعتراف ہے کہ ان مطالبات میں وزن اور حقیقت موجود تھی۔ سوال یہ ہے کہ اگر مسائل کا حل ممکن تھا تو اس کے لیے بحران کے دہانے تک پہنچنے کا انتظار کیوں کیا گیا؟
صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کا یہ مؤقف اپنی جگہ درست ہے کہ حکمران عوام کے خادم ہوتے ہیں اور دشمن عناصر بلوچستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے سرگرم ہیں، تاہم مؤثر حکمرانی کا تقاضا یہ ہے کہ عوامی مسائل کو بروقت حل کیا جائے اور ریاستی رِٹ کو صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے مضبوط بنایا جائے۔ بیرونی سازشوں اور دہشت گردی کے خطرات اپنی جگہ، لیکن عوامی اعتماد، انتظامی کارکردگی اور بروقت فیصلے ہی کسی حکومت کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔ آج حکمران جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتظامی کمزوریوں کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیں، مسائل کے حل کی صلاحیت رکھنے والے اہل افراد کو آگے لائیں اور عوام، تاجروں اور سرمایہ کاروں کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنیں۔ بلوچستان کو وقتی ردعمل اور بحران کے بعد حرکت میں آنے والی حکمرانی نہیں بلکہ ایسی فعال، جوابدہ اور دور اندیش قیادت درکار ہے جو صوبے کو بے یقینی، بدامنی اور معاشی جمود سے نکال کر ترقی، استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکے۔
