حکومتِ بلوچستان کی جانب سے منظور کی جانے والی “بلوچستان اشتہار پالیسی 2026” بظاہر میڈیا کو جدید خطوط پر استوار کرنے، ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے اور اشتہارات کی تقسیم میں نظم و ضبط پیدا کرنے کی ایک کوشش دکھائی دیتی ہے۔ تاہم اگر اس پالیسی کو بلوچستان کے زمینی حقائق، صوبے کی پسماندگی، انٹرنیٹ کی صورتحال، پرنٹ میڈیا کی مشکلات اور میڈیا اداروں کی معاشی ساخت کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو اس میں کئی ایسے پہلو موجود ہیں جو نہ صرف شدید تشویش کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ مستقبل میں میڈیا کی آزادی، شفافیت اور چھوٹے اداروں کے وجود کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔
بلوچستان پاکستان کا سب سے پسماندہ اور وسیع صوبہ ہے جہاں آج بھی متعدد اضلاع ایسے ہیں جہاں انٹرنیٹ سہولت یا تو مکمل بند رہتی ہے یا انتہائی محدود رفتار کے ساتھ دستیاب ہوتی ہے۔ کئی علاقوں میں موبائل ڈیٹا سروسز مہینوں معطل رہتی ہیں۔ ایسے حالات میں اشتہارات کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کو مرکزی حیثیت دینا اور گوگل اینالیٹکس، آن لائن ٹریفک اور VPN کے بغیر رسائی جیسی شرائط عائد کرنا زمینی حقیقتوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب خود حکومت امن و امان یا دیگر وجوہات کی بنیاد پر انٹرنیٹ بند کرتی ہے تو پھر انہی علاقوں کے میڈیا پلیٹ فارمز کو کم ٹریفک یا محدود رسائی کی بنیاد پر کیسے جانچا جائے گا؟
اسی طرح پالیسی میں اشتہاری ایجنسیوں کو درمیان میں لانے کی شق بھی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اشتہاری ایجنسیوں کو مہمات، ویڈیوز، ڈیجیٹل اشتہارات اور ٹی وی کمرشلز کے اجرا میں مرکزی حیثیت دینا بظاہر ایک منظم طریقہ محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں اس سے سرکاری اشتہارات کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ ایجنسیوں کی فیس اور کمیشن کی مد میں خرچ ہوگا۔ اگر اشتہاری ایجنسیاں پندرہ فیصد یا اس سے زائد حصہ وصول کریں گی تو اس کا براہِ راست نقصان پہلے ہی مالی بحران کا شکار اخبارات، علاقائی میڈیا اور چھوٹے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ہوگا۔ بلوچستان میں درجنوں چھوٹے اور علاقائی اخبارات محدود وسائل کے باوجود صحافت کا چراغ روشن رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے لیے اشتہارات محض آمدن نہیں بلکہ بقا کا ذریعہ ہیں۔
پالیسی کی سب سے زیادہ متنازع شق وہ دکھائی دیتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی اخبار، ٹی وی چینل، ڈیجیٹل پلیٹ فارم یا انفلوئنسر “ڈی جی پی آر افسران یا حکومتی محکموں پر دباؤ ڈالے” تو اس کے اشتہارات دو ماہ کے لیے معطل کیے جا سکتے ہیں۔ بظاہر اس شق کا مقصد دباؤ یا بلیک میلنگ روکنا ہوگا، لیکن سوال یہ ہے کہ “دباؤ” کی تعریف کون کرے گا؟ اگر کوئی صحافی یا میڈیا ادارہ کرپشن، نااہلی یا اشتہارات میں اقربا پروری کی نشاندہی کرے تو کیا اسے بھی دباؤ تصور کیا جائے گا؟ اس قسم کی مبہم شقیں اکثر احتساب سے زیادہ خاموشی پیدا کرتی ہیں۔ خطرہ یہ ہے کہ یہی شق کرپشن کرنے والے افسران کے لیے ایک حفاظتی دیوار بن جائے اور تنقیدی صحافت کو اشتہارات بند کرنے کی دھمکی کے ذریعے دبایا جائے۔
اس پالیسی میں یہ تاثر بھی نمایاں ہے کہ فیصلہ سازی کا زیادہ اختیار چند افسران یا مخصوص کمیٹیوں کے ہاتھ میں مرکوز ہو جائے گا۔ جب اختیار وسیع ہو اور نگرانی کمزور ہو تو بدقسمتی سے کرپشن، پسند و ناپسند اور غیر شفاف تقسیم کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ بلوچستان جیسے حساس اور معاشی طور پر کمزور صوبے میں میڈیا کو دباؤ میں لانے کے بجائے اسے مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
مزید یہ کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی کیٹیگریز اور ٹریفک کی شرائط بھی بلوچستان کی مقامی صحافت کے لیے غیر متوازن محسوس ہوتی ہیں۔ صوبے میں اکثر مقامی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز قومی سطح کے لاکھوں ویوز یا فالوورز نہیں رکھتے، مگر ان کا اثر اپنے علاقوں میں انتہائی مؤثر ہوتا ہے۔ اگر صرف بڑے نمبرز کو معیار بنایا جائے گا تو چھوٹے مگر بااثر علاقائی پلیٹ فارمز عملاً نظام سے باہر ہو جائیں گے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان اشتہار پالیسی کو صرف دفتری یا تکنیکی دستاویز نہ سمجھا جائے بلکہ اسے میڈیا کے مستقبل سے جڑی پالیسی کے طور پر دیکھا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ:
تمام اسٹیک ہولڈرز، اخبارات، صحافی تنظیموں، ڈیجیٹل میڈیا نمائندوں، علاقائی میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سول سوسائٹی سے باقاعدہ مشاورت کی جائے۔
بلوچستان کے زمینی حقائق، کمزور انٹرنیٹ انفراسٹرکچر اور پسماندگی کو مرکزی حیثیت دی جائے۔
دیگر صوبوں کی اشتہار پالیسیوں سے رہنمائی ضرور لی جائے، مگر بلوچستان کے مخصوص حالات کے مطابق ترامیم کی جائیں۔
اشتہارات کی تقسیم کے لیے شفاف، قابلِ اعتراض اور اپیل کے حق پر مبنی نظام بنایا جائے۔
“دباؤ” جیسی مبہم اصطلاحات کی واضح قانونی تشریح کی جائے تاکہ آزادیِ صحافت متاثر نہ ہو۔
اشتہاری ایجنسیوں کے کردار، کمیشن اور مالی شفافیت کے لیے واضح احتسابی نظام متعارف کرایا جائے۔
چھوٹے اور علاقائی اخبارات و ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے تحفظ کے لیے خصوصی کوٹہ یا سپورٹ میکانزم وضع کیا جائے۔
اگر پالیسی سازی میں زمینی حقائق، مشاورت اور شفافیت کو نظر انداز کیا گیا تو خدشہ ہے کہ یہ پالیسی میڈیا کی ترقی کے بجائے اختلافِ رائے کو محدود کرنے، چھوٹے اداروں کو کمزور کرنے اور اختیارات کو چند ہاتھوں میں مرکوز کرنے کا ذریعہ بن جائے گی۔ بلوچستان جیسے حساس صوبے میں میڈیا کو کمزور کرنا دراصل عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا۔
