اداریہ ۱۴ جون ۲۰۲۶

ایران۔امریکہ معاہدہ: جنگ کا اختتام یا نئے دور کا آغاز؟

ایک انتہائی اعصاب شکن صورتحال، جس نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو غیر یقینی، معاشی دباؤ اور جنگ کے خدشات سے دوچار کر رکھا تھا، بالآخر امریکی صدر کی مبارک باد کے اعلان کے ساتھ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے مجوزہ معاہدے کو کسی ایک فریق کی شکست یا فتح قرار دینا شاید درست نہ ہو، کیونکہ دونوں ممالک اپنے اپنے عوام کے سامنے اسے کامیابی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔جمعہ کو جینیوا دستخطوں کے بعد آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں کی مکمل بحالی کی توقع ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی رسد میں استحکام آئے گا۔ ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات دیگر اشیائے ضروریہ تک بھی پہنچ سکتے ہیں، جبکہ عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے آثار پہلے ہی نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اس معاہدے کے ساتھ تیل قیمتوں میں پانچ فیصد کمی آئی ہے۔

امریکی صدر نے جنگ بندی اور معاہدے کو امن کی فتح قرار دیا ہے، جبکہ ایران نے اسے اپنی مزاحمت کی کامیابی اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانے کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اپنی فتح کا اعلان کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس بحران نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ جدید دور میں مکمل فوجی فتح کا تصور کمزور پڑ چکا ہے اور بالآخر سیاسی مذاکرات ہی تنازعات کا حل بنتے ہیں۔

اس معاہدے کے اثرات صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کی جغرافیائی و سیاسی بساط کو متاثر کریں گے۔ گزشتہ برسوں میں روس، چین، امریکہ اور ترکیہ کے درمیان جاری سرد جنگ نما مسابقت اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔ اگر ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی آتی ہے اور اس کے منجمد اثاثے بحال ہوتے ہیں تو خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ایران کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھی کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ کیا تہران اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو ازسرنو ترتیب دے گا؟ کیا وہ حالیہ تنازع کے نقصانات کا ذمہ دار بعض علاقائی قوتوں کو سمجھے گا؟ معاہدے سے چند گھنٹے قبل پاکستان کے ساتھ بعض سرحدی تجارتی سرگرمیوں کی معطلی کو بھی بعض مبصرین اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں، اگرچہ اس حوالے سے حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔تاہم سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا ایران انتقامی سفارت کاری کا راستہ اختیار کرے گا یا علاقائی مفاہمت کو ترجیح دے گا۔ اگر تہران نے خاموش بدلے اور سخت گیر پالیسیوں کو اپنایا تو یہ اس کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔ ایسے حالات میں ایران کے اندر اور باہر موجود اعتدال پسند قوتوں کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ملک کو ایک نئے تصادم کی راہ پر جانے سے روکیں۔ علاؤہ ازیں ان ممالک میں مذہبی انتہا پسندی غروج پر جائینگی ۔

قابل غور بات یہ بھی ہے کہ ایران کی جانب سے معاہدے کو کسی تیسرے ملک کے بجائے سلامتی کونسل کے دائرہ کار میں لانے کی خواہش ظاہر کی گئی، جو اس کی جانب سے بین الاقوامی ضمانتوں کے حصول کی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔تاہم اس پورے بحران کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس جنگ اور پھر امن معاہدے نے ایک مرتبہ پھر عالمی اسلحہ ساز صنعت کو غیر معمولی فوائد پہنچائے ہیں۔ خطے کے ممالک کی جانب سے جدید دفاعی نظاموں اور ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو شاید اس بحران کی سب سے بڑی فاتح “وار انڈسٹری” ثابت ہو، جبکہ مشرق وسطیٰ مستقبل میں جدید ہتھیاروں کی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک بن سکتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بنتا ہے یا محض ایک نئے جغرافیائی و سیاسی دور کی تمہید ثابت ہوتا ہے۔