اداریہ ۶ جون ۲۰۲۶

انور ساجدی، محمود خان اچکزئی اور بلوچستان کی نئی صف بندیطنز، تاریخ اور ایک سنجیدہ قومی سوال

بلوچستان کی سیاست میں بعض اوقات ایک کالم یا تقریر ایسے مباحث کو دوبارہ زندہ کر دیتی ہے جو برسوں سے پس منظر میں موجود ہوتے ہیں۔ سینئر صحافی انور ساجدی کے حالیہ کالم نے بھی یہی کام کیا ہے۔ بظاہر ان کے کالم کا مرکز محمود خان اچکزئی کی چمن میں کی گئی تقریر تھی، مگر درحقیقت اس کے پردے میں بلوچستان کی آئندہ سیاسی ساخت، نئے صوبوں کی بحث، وفاقی کردار، پشتون بلوچ تعلقات اور خطے کے مستقبل جیسے اہم سوالات پوشیدہ ہیں۔انور ساجدی بلوچستان کی صحافت کا ایک معتبر نام ہیں۔ بلوچ ہونے کے ناطے وہ بلوچ سماج، ریاستی معاملات اور اندرونی سیاسی حرکیات سے بخوبی واقف ہیں۔ تاہم ان کا تعارف صرف ایک کالم نگار یا تجزیہ کار تک محدود نہیں۔ بھٹو دور میں جب بلوچستان کی منتخب حکومت برطرف کی گئی، سیاسی کشیدگی اپنے عروج پر تھی اور ریاست و قوم پرست قوتوں کے درمیان تصادم کی فضا موجود تھی، اس وقت انور ساجدی نے ایک صحافی کی حیثیت سے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مختلف ادوار میں بلوچستان کے سیاسی، قومی اور جمہوری مسائل کو اجاگر کیا اور ایسے وقت میں بھی قلم کا ساتھ نہیں چھوڑا جب اختلافی آوازیں دباؤ کا سامنا کر رہی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں کو محض ایک کالم نگار کی رائے نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کے مشاہدات کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے جس نے بلوچستان کی سیاسی تاریخ کے کئی اہم ادوار کو قریب سے دیکھا ہے۔شاید یہی پس منظر ہے جس کی وجہ سے ان کی تحریروں کو بلوچستان کے سیاسی حلقوں میں سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ تاہم جتنی اہم ان کی صحافتی جدوجہد ہے اتنی ہی اہم یہ بات بھی ہے کہ آج کے پیچیدہ حالات میں تاریخی تجربات کو باہمی احترام اور تعمیری مکالمے کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں انتظامی تقسیم، نئے ڈویژنوں اور ممکنہ نئی وحدتوں کی بحث کوئی نئی بات نہیں۔ جب وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے سبی میں اختیارات کی منتقلی اور نئی انتظامی ترتیب کا ذکر کیا تو سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ مستقبل میں مزید انتظامی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ بلوچستان میں ماضی سے اقتدار، وسائل اور ترقیاتی منصوبوں کی تقسیم مخصوص سیاسی و سماجی حلقوں کے گرد گھومتی رہی ہے۔ اسی تناظر میں یہ سوال بھی ابھر رہا ہے کہ آیا بعض ایسے علاقے جو ماضی میں وفاقی انتظام یا وفاقی مفادات کا حصہ رہے ہیں، انہیں مستقبل میں کسی نئی آئینی یا انتظامی ترتیب کے تحت وفاق کے دائرۂ اثر میں لانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

ایسے ماحول میں پشتون قوم پرست حلقوں کی جانب سے اپنی جغرافیائی وحدت اور تاریخی شناخت کے سوال کو دوبارہ اٹھانا غیر فطری نہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ وہی بیانیہ ہے جو مختلف ادوار میں اقتدار کی سیاست کے باعث پس منظر میں چلا گیا تھا مگر اب نئی شکل میں دوبارہ عوامی بحث کا حصہ بن رہا ہے۔
مجھے یاد ہے کہ 2017ء میں کوئٹہ پریس کلب کے پروگرام ’’حال احوال‘‘ میں، جس میں محمود خان اچکزئی بھی شریک تھے، میں نے سوال اٹھایا تھا کہ پشتون قوم تاریخ کے ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ ایسے وقت میں جب پشتون اکثریتی علاقوں پر مشتمل صوبے کے قیام کے مطالبے کو نہ صرف پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اپنی سیاست کا حصہ قرار دیتی رہی ہے بلکہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور سردار اختر جان مینگل کی جماعتیں بھی مختلف مواقع پر اس مطالبے کی حمایت کے لیے آمادگی ظاہر کرتی رہی ہیں، تو پھر اس مطالبے کو عملی سیاسی تحریک کی صورت میں آگے کیوں نہیں بڑھایا جا رہا؟محمود خان اچکزئی کا جواب اس وقت نہایت واضح اور جذباتی تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ اس وقت تاریخ کے ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ پشتون روایات اور اقدار کا تقاضا یہ ہے کہ مشکل وقت میں ہمسائے کا ساتھ دیا جائے، نہ کہ اس کی مشکلات میں اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ ایسے حالات میں اگر بلوچوں پر کوئی گولی چلتی ہے تو وہ محمود خان اچکزئی کے سینے سے ہوتی ہوئی گزرے گی۔ ان کے نزدیک اس وقت بنیادی ترجیح پشتون اور بلوچ کے درمیان اعتماد، یکجہتی اور مشترکہ جدوجہد تھی، نہ کہ ایسے مطالبات کو آگے بڑھانا جو اس نازک مرحلے میں مزید سیاسی پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہوں۔یہ سوال دراصل محض ایک جماعت یا ایک رہنما سے متعلق نہیں تھا بلکہ بلوچستان کی مجموعی قومی سیاست اور مستقبل کی سمت سے متعلق تھا۔اس سے کئی سال قبل، جب مرحوم سردار عطاء اللہ مینگل پونم کے صدر منتخب ہوئے تھے، ایم پی اے ہاسٹل میں ایک ملاقات کے دوران میں نے ان سے پشتون اور بلوچ علاقوں کی حدود اور حقوق کے تعین کے بارے میں سوال کیا تھا۔ ان کا جواب نہایت معنی خیز اور دور رس تھا۔ انہوں نے کہا تھا: ’’اس وقت اس صوبے کا مالک کوئی اور ہے۔ جب اختیار ہمارے ہاتھ میں ہوگا تو تاریخ اور جغرافیہ کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں گے، اور اگر ضرورت پڑی تو ہمسایہ اقوام سے بھی مدد لی جائے گی۔‘‘سردار عطاء اللہ مینگل کا یہ جواب دراصل اس حقیقت کی عکاسی کرتا تھا کہ بلوچستان کے قومی سوالات کو محض انتظامی یا سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ تاریخی، جغرافیائی اور باہمی قومی تعلقات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد ازاں جب یہی سوال محمود خان اچکزئی کے سامنے رکھا گیا تو انہوں نے بھی جواب دینے کے بجائے سردار عطاء اللہ مینگل کی طرف رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ یہ رویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ماضی کی قوم پرست قیادت متنازعہ امور کو تصادم کے بجائے مکالمے، باہمی رضامندی اور تاریخی حقائق کی بنیاد پر حل کرنے کی قائل تھی۔

انور ساجدی نے اپنے کالم میں محمود خان اچکزئی کو ’’سیاسی سوداگر‘‘ قرار دیا ہے اور ان کی سیاست کو پشتون کارڈ کے گرد گھومتی ہوئی سیاست کہا ہے۔ اختلاف ہر شخص کا حق ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ بلوچستان کی سیاست میں پشتون اور بلوچ قومی سوالات محض انتخابی نعرے نہیں بلکہ تاریخی، جغرافیائی اور سماجی حقائق ہیں۔ ان پر بحث کو شخصیات کے بجائے دلائل اور تاریخی شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھانا زیادہ مفید ہوگا۔

جہاں تک ’’آدھا بلوچستان لکھ کر دینے‘‘ والی بات کا تعلق ہے تو جو لوگ محمود خان اچکزئی کے سیاسی انداز سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہ اکثر سنجیدہ سیاسی گفتگو میں ظرافت اور مزاح شامل کرتے ہیں۔ ایسی باتوں کو لفظی معنی میں لینا بعض اوقات اصل سیاق و سباق کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔انور ساجدی نے اپنے کالم میں راستوں اور تجارتی گزرگاہوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہاں ایک اہم حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ صرف پشتون بلوچ علاقوں کے راستوں سے استفادہ نہیں کرتے بلکہ بلوچستان کی جغرافیائی حیثیت کئی دہائیوں سے ایک بڑی بارڈر معیشت کا مرکز رہی ہے۔ ان راستوں سے صرف مقامی آبادی نہیں بلکہ ملک کے چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے بااثر تجارتی، سیاسی اور انتظامی حلقے بھی مختلف ادوار میں فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔

اسمگلنگ اور غیر رسمی تجارت کا مسئلہ بھی کسی ایک قوم یا علاقے تک محدود نہیں۔ اس سے وابستہ مالی مفادات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ کھربوں روپے کی سالانہ بارڈر معیشت اور غیر رسمی تجارت کے مختلف پہلوؤں سے ملک کے مختلف حصوں میں موجود طاقتور حلقے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ تقریباً ایک دہائی قبل صرف چھ ماہ کے عرصے میں سرکاری کاغذات میں 72 ارب روپے مالیت کے ایرانی تیل کی ضبطی ظاہر کی گئی تھی۔ بعد ازاں یہی تیل نیلامی کے عمل سے گزارا گیا اور سیاسی و صحافتی حلقوں میں یہ سوال زیر بحث رہا کہ کاغذی کارروائیوں کے ذریعے یہی تیل متعدد مرتبہ ملک کے مختلف حصوں تک پہنچایا گیا۔ اگر ایسے معاملات میں صداقت موجود ہے تو مسئلہ صرف سرحدی تجارت نہیں بلکہ نگرانی، احتساب اور ریاستی نظم و نسق کا بھی بنتا ہے۔اس ساری بحث میں ایک بنیادی نکتہ نظر انداز نہیں ہونا چاہیے۔ پشتون اور بلوچ ایک دوسرے کے ہمسائے ہیں۔ ان کی تاریخ، جغرافیہ، خوشیاں، غم، تجارت، رشتے داریاں اور مشترکہ مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ گزشتہ ایک صدی میں آنے والی سیاسی تبدیلیاں اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں اقوام کے درمیان موجود اختلافات کو دشمنی میں نہیں بلکہ مکالمے میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

اس وقت پشتون اور بلوچ دونوں اقوام اپنی تاریخ کے ایک نہایت کٹھن دور سے گزر رہی ہیں۔ بدامنی، سیاسی بے یقینی، معاشی مشکلات اور اختیارات کے سوالات دونوں کے مشترکہ مسائل ہیں۔ بدقسمتی سے ان دونوں اقوام کے درمیان بعض متنازعہ امور بھی موجود ہیں جنہیں نظر انداز کرنے کے بجائے علمی اور سیاسی سطح پر زیر بحث لانے کی ضرورت ہے۔ تاہم اس بحث کا مقصد فاصلے بڑھانا نہیں بلکہ مسائل کا حل تلاش کرنا ہونا چاہیے۔

دانشوروں، صحافیوں اور سیاسی قائدین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ متنازعہ امور کی نشاندہی کے ساتھ ان کے قابلِ عمل حل بھی پیش کریں۔ طنز اور تمسخر وقتی داد تو حاصل کر سکتے ہیں مگر دیرپا سیاسی مفاہمت اور قومی ہم آہنگی سنجیدہ مکالمے، تاریخی دیانت داری اور باہمی احترام ہی سے ممکن ہے۔بلوچستان کے مستقبل کا سوال کسی ایک قوم، جماعت یا شخصیت کا نہیں بلکہ اس سرزمین میں آباد تمام اقوام کے مشترکہ مستقبل کا سوال ہے۔ ایسے میں قلم کا کام محاذ بنانا نہیں بلکہ پل تعمیر کرنا ہے۔۔