مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی، بالخصوص امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے تناؤ نے ایک بار پھر دنیا کو اس حقیقت کی یاد دہانی کرائی ہے کہ عالمی توانائی اور تجارت کا ایک بڑا حصہ چند حساس بحری گزرگاہوں پر انحصار کرتا ہے۔ ان میں سرِفہرست آبنائے ہرمز ہے، جہاں کسی بھی فوجی یا سیاسی کشیدگی کے اثرات نہ صرف خلیجی خطے بلکہ عالمی معیشت پر فوری طور پر محسوس کیے جاتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، بحری انشورنس اخراجات میں اضافہ، تجارتی تاخیر اور سرمایہ کاروں کے خدشات ایسے عوامل ہیں جو دنیا کو بار بار عدم استحکام کے دہانے پر لا کھڑا کرتے ہیں۔
یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ خلیجی ممالک نے گزشتہ برسوں میں متبادل راستوں اور پائپ لائنوں پر محدود سطح پر پیش رفت کی ہے، تاہم موجودہ حالات شاید اس سوچ کو ایک نئی سمت دینے کا باعث بن سکتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خلیجی ریاستیں، خصوصاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور عمان، مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس امکان پر سنجیدگی سے غور کر سکتی ہیں کہ توانائی کی ترسیل اور تجارت کو کسی ایک حساس گزرگاہ تک محدود رکھنے کے بجائے متبادل راستوں کے ذریعے زیادہ محفوظ، متنوع اور پائیدار بنایا جائے۔ اس سلسلے میں نہ صرف پائپ لائن نیٹ ورک بلکہ ممکنہ متبادل بحری گزرگاہوں یا کینال منصوبوں کی افادیت پر بھی بحث کی جا سکتی ہے۔
یہ بحث صرف پیٹرولیم مصنوعات تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ اگر مستقبل میں کسی بڑے انفراسٹرکچر منصوبے پر غور کیا جائے تو اسے بین الاقوامی تجارت، لاجسٹکس، کنٹینر شپنگ، فری ٹریڈ زونز، صنعتی مراکز، بندرگاہی ترقی اور علاقائی معاشی انضمام کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔ اگر متبادل تجارتی راہداریوں کے ذریعے خلیجی ساحلوں کو براہِ راست عالمی بحری راستوں سے جوڑنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات توانائی کے شعبے سے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتے ہیں۔
اس نوعیت کے منصوبے یقیناً کسی ایک ملک کے وسائل یا مفادات تک محدود نہیں رہ سکتے۔ خلیجی ریاستوں کو عالمی سرمایہ کاروں، بڑی معیشتوں، توانائی درآمد کرنے والے ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ وسیع مشاورت کی ضرورت ہوگی تاکہ ایسے منصوبے اقتصادی طور پر قابلِ عمل، تکنیکی طور پر محفوظ اور سیاسی طور پر پائیدار بن سکیں۔ چین، یورپ، جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر بڑے درآمد کنندگان کے لیے بھی توانائی کی مسلسل اور محفوظ ترسیل ایک اہم مفاد ہے، اس لیے ایسے اقدامات میں ان کی دلچسپی فطری ہو سکتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی حساس بحری راستے پر انحصار کم ہونے سے خطے کی طاقت کی حرکیات میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ زیادہ متبادل راستے بننے سے کسی ایک گزرگاہ کی جغرافیائی اہمیت نسبتاً کم ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں کشیدگی کے وقت عالمی منڈیوں پر دباؤ اور غیر یقینی کیفیت میں بھی کمی آ سکتی ہے۔ تاہم اس بحث کو تصادم یا محاذ آرائی کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے علاقائی استحکام، تجارتی تسلسل اور اقتصادی سلامتی کے تناظر میں سمجھنا زیادہ مناسب ہوگا۔
دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں توانائی، تجارت اور جغرافیائی سیاست ایک دوسرے سے الگ نہیں رہیں۔ یہی وقت ہے کہ خلیجی ممالک وقتی بحرانوں سے آگے بڑھ کر طویل المدتی منصوبہ بندی کریں، متبادل راہداریوں، جدید پائپ لائن نیٹ ورک، مشترکہ بندرگاہی نظام اور ممکنہ تجارتی کوریڈورز پر سنجیدہ غور کریں تاکہ مستقبل میں کسی بھی بحران کے اثرات کو کم کیا جا سکے اور عالمی تجارت و توانائی کے بہاؤ کو زیادہ محفوظ بنایا جا سکے۔
